Sun 23-4-1443AH 28-11-2021AD

انسان کی آنکھیں بہت کچھ بتا دیتی ہیں

‘زبان کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں، جو شخص جتنی زیادہ زبانیں جانتا ہے اسے کافی فوائد حاصل ہوتے ہیں،’کسی ایسے ملک میں جہاں کی زبان سے آپ واقف ہوتے ہیں آپ کو وہاں جا کر کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا، علاوہ ازیں ان ممالک کے لوگوں سے رابطہ کرنے میں بھی سہولت ہوتی ہے جن کی زبان سے آپ بخوبی واقف ہوتے ہیں۔

 سعودی عرب کے میگزین الرجل نے ’زبان‘ کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے تاہم یہ اس اعتبار سے قطعی مختلف ہے کہ اس بولی کی کوئی ’آواز‘ نہیں ہوتی بس یہ احساسات سے متعلق ہوتی ہے۔ ’باڈی لینگویج‘ سے آج ہر کوئی واقف ہے اور اسے عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا جا چکا ہے ۔

انسانی جسم کا ہر عضو کچھ نہ کچھ کہتا ہے اور اسے جاننے والے بخوبی سمجھ جاتے ہیں کہ ’جسم کا مالک‘ جو کچھ بول کر کہہ رہا ہے وہ درست ہے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کی آنکھیں بہت کچھ بتا دیتی ہیں جبکہ جسم کے مخصوص اعضا بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔

باڈی لینگویج کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جسمانی اعضا کی حرکات مختلف علاقوں اور ملکوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں تاہم بہت حد تک ان میں یکسانیت پائی جاتی ہے جس سے اِس فن کو آسانی سے سمجھا اور سیکھا جا سکتا ہے۔

باڈی لینگویج کا استعمال

اختیارات اور باڈی لینگویج:

بااختیار افراد کے لیے باڈی لینگویج کا استعمال بے حد اہمیت کا حامل ہے، جو افراد جسمانی اعتبار سے مضبوط ہوتے ہیں ان میں طاقت کا احساس اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے اور وہ اپنی اس طاقت سے واقف بھی ہوتے ہیں اور اس کا استعمال بھی مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جسمانی حرکات سے بھی بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے (فوٹو: الرجل)

 جیسا کہ ایسے افراد اپنے بازو اور پاؤں زیادہ دراز کرتے ہیں۔ایسے افراد لاشعوری طور پر اپنی طاقت و قوت کے زیرِ اثر اکثر اوقات اپنے ہاتھ گردن کے پیچھے رکھ لیتے ہیں اور میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھتے ہیں، یہ ان افراد کی نشانی ہوتی ہے جو اختیارات یا جسمانی قوت و طاقت کے مالک ہوتے ہیں۔

اِشارے اور باڈی لینگویج:

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اساتذہ باڈی لینگویج کا زیادہ تر استعمال کرتے ہیں، جو یاد رکھنے اور سوچنے میں کافی معاون ثابت ہوتے ہیں یعنی طلبہ ان اشاروں کو یاد رکھ کر اپنے اساتذہ کا اصل مقصد سمجھ جاتے ہیں۔

 بعض اوقات اس سے طلبہ کی توجہ بھی بٹ جانے کا امکان ہوتا ہے تاہم اس سے یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ جو لوگ باڈی لینگویج کا استعمال نہیں کرتے وہ زیادہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

چہرے کے اُتار چڑھاؤ اور ہاتھوں کا کُھلنا اور سِمٹنا بہت کچھ سمجھا جاتا ہے (فوٹو: فلکر)

باڈی لینگویج کی تاریخ:

رومن اور قدیم یونانیوں نے باڈی لینگویج کے اشارے سمجھنے کی ابتدا کی اور اسے زبان کے طور پر سمجھنا شروع کیا۔ ارسطو اور بعض فلسفیوں نے اس حوالے سے اپنے مشاہدات بھی درج کیے ہیں کہ جن میں مختلف شخصیات کے بارے میں مختلف طریقے درج کیے گئے ہیں۔

ابتدا میں رومیوں نے کافی پہلے اس بات کو سمجھ لیا تھا کہ محض منہ سے نکلنے والے جملے ہی وہ نہیں ہو سکتے جو بولا جا رہا ہے یا جو حقیقت ہو، تاہم ان کے ساتھ جو اشارے اور جسمانی حرکات ہوتی ہیں ان سے بھی بہت کچھ جانا اور سمجھا جا سکتا ہے۔

 کام کے دوران یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی باڈی لینگویج کا درست استعمال کریں (فوٹو: الرجل)

تعلیم میں باڈی لینگویج کی اہمیت:

یہ بھی حقیقت ہے کہ اساتذہ بعض اوقات اپنے طلبہ پر اثر انداز ہونے کے لیے مختلف طرح کی جسمانی حرکات کا استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے طلبہ کے معیار اور ان کی صلاحیتوں سے واقف ہو سکیں کہ کون مستقبل میں کہاں تک جا سکتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اہداف کہاں تک پورے کر سکتا ہے۔

کام کے دوران باڈی لینگویج کی اہمیت:

 کام کے دوران یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی باڈی لینگویج کا درست استعمال کریں، آپ کا اندازِ نشست و برخاست متوازن ہو، کرسی پر سیدھی حالت میں بشاش طبیعت کے ساتھ بیٹھے ہوں۔

اپنے ساتھیوں کے ساتھ برابر ہر طرح کا رابطہ ہو، دوسروں کی بات کو توجہ سے سنیں اور اپنے چہرے کے اُتار چڑھاؤ پر قابو رکھیں، غصے کا فوری طور پر اظہار نہ کریں، یعنی یک دم آپے سے باہر نہ ہو جائیں۔

اساتذہ طلبہ پر اثر انداز ہونے کے لیے جسمانی حرکات استعمال کرتے ہیں (فوٹو: پِکسلز)

باہمی رابطے میں باڈی لینگویج کی اہمیت:

باہمی رابطے کے لیے باڈی لینگویج انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے ذریعے لمحوں میں وہ کچھ آپ دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں جو عام طور پر بول کر ممکن نہیں ہوتا، یعنی محض گُھور کر دیکھنے میں بہت کچھ پوشیدہ ہوتا ہے جسے آپ کا مدِمقابل سمجھ جاتا ہے کہ اب مزید کچھ نہ کہا جائے۔

چہرے کے اُتار چڑھاؤ اور ہاتھوں کا کُھلنا اور سمٹنا مدِمقابل کو بہت کچھ سمجھا جاتا ہے جس سے بعض اوقات انسان لمبی بحث میں پڑنے سے بچ جاتا ہے اور آپ اپنا حقیقی مُدعا بھی لمحوں میں دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں، اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ’باڈی لینگویج‘ ایک سچی زبان ہے۔

Read Previous

پاکستانی ڈرامے ڈپریشن بڑھا رہے ہیں؟

Read Next

Rudimentary Elements In dateinasia.com – For Adults