Sun 10-11-1442AH 20-6-2021AD

آسٹریلیا میں نسلی مساوات، انصاف کے لیے مظاہرے

حکومت کی جانب سے انتباہ کے باوجود آسٹریلیا کے کئی شہروں میں مظاہرین نے نسلی مساوات کے لیے مظاہرے کیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے کہا تھا کہ یہ مظاہرے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف حکومتی کامیابیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

آسٹریلیا میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ مغربی آسٹریلیا کے دارالحکوت پرتھ میں ہوا جہاں مظاہرین ایک پارک میں جمع تھے اور ’ بلیک لائیوز میٹر‘ کے پلے کارڈز اور آسٹریلیا کے مقامی باشندوں کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔

ان مظاہرین نے مقامی باشندوں کی ’حراست میں اموات‘ کے خلاف بھی پلے کارڈز اٹھائے تھے۔

آسٹریلیا کے شمالی علاقے کے دارالحکومت ڈارون اور کوئینز لینڈ کے شہروں  میں بھی مقامی باشندوں کے حقوق کے لیے چھوٹے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ان دونوں شہروں میں متعدد مقامی کمیونیٹیز رہتی ہیں۔

ڈارون میں مظاہرے میں شریک ایک فرد نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ بطور مقامی باشندے ہم اپنے مسقبل کے لیے اور ناانصافیوں کے خلاف یہاں جمع ہوئے ہیں۔

ڈارون میں حکام کی جانب سے مظاہروں کی اجازت دی گئی تھی لیکن دیگر شہروں میں اجتماعات کے حوالے سے ان احکامات کی خلاف ورزی کی گئی جو تین مہینے پہلے حکام کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دئے گئے تھے۔

تاہم منتظمین کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ مظاہرین میں فاصلہ رہے اور وہ مظاہروں کے دوران ماسک کا استعمال کریں۔

یہ آسٹریلیا میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا دوسرا ہفتہ ہے۔

 منتظمین نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مظاہرین ماسک پہنیں (فوٹو: اے ایف پی)
ابتدائی طور پر ان مظاہروں کا آغاز امریکہ سے شروع ہونے والے ’بلیک لائیوز میٹر‘ سے اظہار یکجہتی کے لیے ہوا۔

آسٹریلیا میں بھی ملک کے مقامی باشندوں کو نسلی امتیاز کا سامنا ہے۔ جیلوں میں ان کی ایک بڑی تعداد ہے اور گذشتہ تین دہائیوں میں چار سو زیادہ مقامی باشندے حراست میں ہلاک ہوئے ہیں۔

درجنوں تحقیقات، جوڈیشل انکوائری اور کچھ کیسز میں ویڈیو ثبوتوں کے باوجود ابھی تک ان اموات پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔

آسٹریلیا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ترین ممالک میں سے ایک رہا ہے۔

آسٹریلیا میں کورونا وائرس سے سات ہزار افراد متاثر جبکہ ایک سو دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا کی آبادی دو کروڑ 50 لاکھ ہے۔

آسٹریلیا کے مقامی باشندوں کو بھی ملک میں امتیاز کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

برطانیہ میں احتجاجی مظاہرے

برطانیہ میں بھی مظاہرین جارج فلوئیڈ کے ساتھ اظہار یکجہتی اور پولیس مظالم کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

تاہم پولیس نے کورونا وائرس کے دوران اجتماعات پر عائد پابندی کے لیے حکومتی ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئےمظاہرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مظاہروں میں شرکت کے لیے نہ نکلیں۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ ہفتے کی طرح اس دفعہ بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ نہ ہو جائے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے میٹ کمانڈر باس جاوید نے ایک بیان میں کہا ہے ہم آپ سے کہہ رہے ہیں کہ لندن نہ آئیں اور اپنی آواز پہنچانے کے لیے دوسرے طریقے استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس بات کو بالکل سمجھتا ہوں کہ لوگ کیوں چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے لیکن حکومتی احکامات یہ ہیں کہ ہم اب بھی وبا سے نمٹ رہے ہیں اور لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ بڑے گروپس میں اکھٹے نہ ہوں۔

برطانیہ میں بھی جارج فلوئیڈ سے اظہاری یکجہتی کے مظاہرے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

میٹرو پولیٹن پولیس کے میٹ کمانڈر کا کہنا ہے کہ اگر آپ حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو نہ صرف آپ خود کو بلکہ اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

امریکہ میں سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد برطانیہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

برطانیہ میں تمام مظارہرے پر امن رہیں لیکن گذشتہ ہفتے یہ مظاہرے برسٹل میں اس وقت پرتشدد شکل اختیار کیے جب مظارین نے 17 ویں صدی کے ایک تاجر ایڈروڈ کولسٹن جو غلاموں کی تجارت کرتے تھے، کا مجسمہ گرایا اور اس کو بندرگاہ میں پھینک دیا۔

جمعے کو برطانیہ کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کو شدت پسندوں نے ہائی جیک کیا۔

Read Previous

نیپال کی پارلیمنٹ سے نیا نقشہ منظور، انڈیا کو اعتراض

Read Next

بیجنگ میں دو ماہ بعد کورونا کے نئے کیسز، دو بازار بند

Leave a Reply

Your email address will not be published.