Sun 29-8-1442AH 11-4-2021AD

بیجنگ میں دو ماہ بعد کورونا کے نئے کیسز، دو بازار بند

بیجنگ میں دو کیسز سامنے آنے کے بعد بچوں کی سکولوں کو واپسی موخر کر دی گئی ہے (فوٹو: ٹوئٹر)

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا وائرس کے  تازہ کیسز سامنے آنے کے بعد دو مارکیٹیں بند کر دی گئیں ہیں جب کہ پرائمری سکولز کے بچوں کی سکولوں کو واپسی بھی موخر کر دی گئی۔

بیجننگ میں کورونا کے کیسز دو ماہ کے بعد سامنے آئے ہیں۔

کورونا کے تازہ کیسز کے بعد چین میں کورونا کے دوبارہ پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے گو کہ چین نے ملک میں کورونا پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔

حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے زیادہ تر کیسز بیرون ملک سے آنے والے افراد میں سامنے آئے ہیں۔  تاہم جمعرات کو دارالحکومت کے باہر ایک ایسا کیس سامنے آیا تھا جس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں تھی۔ جمعے کو ایسے دو کیسز رپورٹ ہوئے۔

حکام کے مطابق تازہ ترین کیسز چائنا میٹ ریسرچ سینٹر کے دو ملازمیں کے سامنے آئے ہیں۔  ان میں سے ایک گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چین کے مشرقی علاقے کنگ ڈاؤن کا سفر کیا تھا۔

نئے کیسز کے بعد بیجنگ کے زنفادی ہول سیل میٹ مارکیٹ اور جنگشین سی فوڈ مارکیٹ کو جراثیم کش سپرے اور انوائرمنٹل سیمپل لینے کے لیے بند کردیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق مارکیٹوں کو بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ دونوں مریضوں نے مارکیٹس کے دورے کیے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق دونوں مارکیٹوں میں درجن بھر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جنہوں نے مارکیٹوں کو گھیرے میں لے لیا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ گزشتہ سال چین کے شہر ووہان میں جانوروں کی ایک مارکیٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا اور پوری دنیا میں پھیل گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ میں کورونا کے ٹوٹل 597 کیسز سامنے آئے (فوٹو: اے ایف پی)

بیجنگ کے ایجوکیشن کمیشن نے جمعے کو اعلان کیا کہ پہلی، دوسری اور تیسری جماعت کے طالب علموں کی پیر سے سکولوں کو واپسی موخر کر دی گئی ہے۔ چین کے سرکاری ایجنسی کے مطابق اس فیصلے سے پانچ لاکھ 20 ہزار طلبا متاثر ہوں گے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ جو طلبا پہلے سے ہی سکولوں کو واپس آ چکے ہیں وہ معمول کے مطابق پڑھائی جاری رکھیں گے۔

اپریل کے آخر سے بیجنگ میں طلبا آہستہ آہستہ سکولوں میں واپس آنا شروع ہوئے ہیں۔ دارالحکومت میں کوروان وائرس کا آخری کیس حالیہ کیسز سے پہلے اپریل کے وسط میں سامنے آیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ میں کورونا کے ٹوٹل 597 کیسز سامنے آئے جن میں سے 174 بیرون ملک سے آنے والے تھے۔ حالیہ کیسز کے بعد سوشل میڈیا میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

چین کے ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ویبو پر ایک صارف نے لکھا ’ بیجنگ کنڑول سے باہر ہو جائے گا۔ جلدی سے وبا پر قابو پانے کے اقدامات کو بہتر بنائیں۔‘

بعض صارفین نے بیجنگ میں کورونا کے بڑے پیمانے پر ٹیسٹس کرانے کی تجویز دی۔ چین نے ووہان میں کروڑوں شہریوں کا کورونا ٹیسٹ کرانے کی مہم چلائی۔

Read Previous

آسٹریلیا میں نسلی مساوات، انصاف کے لیے مظاہرے

Read Next

’کیا ہم یہ امیج سیاحوں کو دکھانا چاہتے ہیں؟‘