Sun 29-8-1442AH 11-4-2021AD

عوام جواب جاننا چاہتے ہیں۔۔۔

ہفتے کے روز موبائل فون پر اپنے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ کا میسج آیا تو دھڑکتے دل کے ساتھ لنک کھولا۔

لاشعوری طور پر شاید ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ہمیں کورونا ہو گا بلکہ سوال یہ ہے کہ ہونا تو ہے ہی، اب دیکھنا یہ ہے کہ کب تک ہوتا ہے۔

لیکن سچ پوچھیں تو ’کووڈ پازیٹو‘ کا لفظ پڑھ کر پہلی بار چار سو چالیس وولٹ کا ایک جھٹکا سا لگتا ہے۔ اس کے بعد جو خیال ذہن میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ آخر یہ نگوڑا وائرس لگا کس جگہ سے ہے؟

اگلا کام فوری طور پر ان لوگوں کو مطلع کرنا ضروری ہے جن سے آپ کا چند دنوں میں میل ملاپ رہا ہو۔ کئی ایسے پڑھے لکھے، بظاہر سمجھدار اور متمول خاندان دیکھے ہیں جو اپنی علامات کو چھپاتے ہیں، ٹیسٹ نہیں کراتے اور دوسروں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ایک ذمہ دار حکومتی عہدیدار سے بات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ اب تو کچھ ایم این ایز بھی ٹیسٹ کرانے سے کترا رہے ہیں کہ اگر کووڈ پازیٹو نکل آیا تو بدنامی ہو جائے گی۔

پاکستان میں اب زیادہ تر کاروباری سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں (فوٹو: اے ایف پی) 

بہرحال تمام وسوسے اور اندیشے اپنی جگہ، لیکن کورونا پازیٹو ہونے کے بعد ایک عجیب سا اطمینان بھی ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ اب ہر وہم سے آزاد ہو گئے ہیں، بھلے چنگے ہونے کے بعد کم از کم آپ کے لیے تو دنیا اور زندگی معمول پر آ جائے گی۔

پیر کو حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی اپنی پالیسی میں مزید توسیع کا اعلان کر دیا ہے، وہ پالیسی جس کے ثمرات اب بھرپور طریقے سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ اب اعداد و شمار کی جگہ چہروں اور ناموں نے لے لی ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی ایسے شخص کو جانتا ہے جس کا انتقال کورونا کے باعث ہوا ہے۔ حکومت اسے بار بار ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ کا نام دے رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاست نے غیر اعلانیہ طور پر جو پالیسی اس وقت اپنائی ہوئی ہے اسے ’ہرڈ امیونٹی‘ کہا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایک بڑی آبادی وبا کا شکار ہو کر اجتماعی قوت مدافعت پیدا کر لیتی ہے۔ ابھی تک دنیا میں سویڈن نے اور شروع شروع میں برطانیہ نے ہرڈ امیونٹی پالیسی اختیار کی لیکن ان حکومتوں کا یہ قدم اعلانیہ تھا۔

پاکستان میں حزب اختلاف کورونا پر حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے برعکس پاکستان میں آپ کسی بھی حکومتی ترجمان چاہے وہ اسد عمر ہوں یا ڈاکٹر مرزا، ان سے پوچھیں تو وہ فوراً سے پیشتر اس بات کو جھٹلا دیتے ہیں کہ نہیں، ہماری پالیسی ہرڈ امیونٹی ہرگز نہیں ہے۔ چند لوگوں کو چکمہ دینا شاید آسان ہو، لیکن پوری دنیا اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت ہرڈ امیونٹی پالیسی کی اعلانیہ اونر شپ لینے سے کترا کیوں رہی ہے؟

حکومتی قلابازیوں کے اثرات براہ راست عوام پر پڑ رہے ہیں۔ جب بھی علامات ظاہر ہوتی ہیں تو سب سے پہلے ٹیسٹ کرانے دوڑتے ہیں۔ چونکہ میں بذات خود کووڈ کے تجربہ سے گزر رہی ہوں، تو ٹیسٹنگ کے حوالے سے ایک تشویشناک آبزرویشن سامنے آئی ہے۔

علامات ظاہر ہونے کے بعد جب میرے ٹیسٹ کے نتائج پازیٹو آئے تو ایک مشورہ جو مجھے ہر جگہ سے دیا گیا وہ یہ تھا کہ احتیاطً ایک ٹیسٹ اور کروا لینا بہتر ہوگا کیونکہ پاکستان میں ہونے والی ٹیسٹنگ قابل بھروسہ نہیں ہے۔

کچھ لوگوں نے اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا جو پہلے پازیٹو اور فوری طور پر کرائے گئے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں کرونا نیگیٹو قرار دیے گئے۔ غیر معیاری کٹس پر عوام کا بھروسہ خال خال ہی نظر آتا ہے۔

اگر مجھے کورونا کی علامات بہت واضح نہ ہوتیں تو شاید یہ شبہ فالس پازیٹو نیگیٹو کا مخمصہ مجھے بھی کنفیوژ کر دیتا۔ اس ساری صورت حال کا لب لباب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے بقول پشتو مثال کہ ‘اخپل بندوبست ‘ ہے۔ 

وزیراعظم کی طرف سے سوائے احتیاط کے نہ کوئی مشورہ ہے نا کوئی پالیسی۔ نہ ٹیسٹنگ کا معیار اور مقدار بڑھ رہی ہے، نہ ہی کورونا سے زیادہ متاثرہ علاقوں کی تخصیص ہو رہی ہے حتیٰ کہ حکومت کےاعداد و شمار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پاکستان کے کاروباری مراکز میں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد میں مشکل کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی) 

لوگوں کو بیماری سے بچانا اور ان کے لیے ضروریات زندگی مہیا کرنا دونوں حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر برطانیہ یا امریکہ میں زیادہ اموات ہوئی ہیں تو جرمنی اور انڈونیشیا میں کم بھی تو ہوئی ہیں۔ کم از کم عوام کا یہ جاننے کا حق تو ہے کہ ان کی حکومت کی پالیسی کیا ہے؟ یہ کہ ان کی جان کا تحفظ کیسے ہو گا؟

کیا صرف یہ خبر سنا دینا کافی ہو گا کہ اس کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالیں اور ابھی تک تو مریض ہزاروں میں ہیں اگر تعداد تیزی سے بڑھ جاتی ہے تو کیا پھر بھی یہی طرزِ عمل رہے گا؟

عوام ان سوالوں کا جواب جاننا چاہتے ہیں۔۔۔

Read Previous

جب بھٹو کرکٹ کے دیوانے تھے

Read Next

تنگدستی کا شکار آرٹسٹ سڑک کنارے سٹال لگانے پر مجبور