Sun 10-11-1442AH 20-6-2021AD

وفاقی بجٹ، تنخواہوں میں اضافہ نہ ہو سکا

جب جنوری میں پاکستان میں کورونا کی وبا کی خبر پھیلنا شروع ہوئی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ وائرس اس کی نوکری، خوشحالی اور حتیٰ کہ شادی تک کو متاثر کر دے گا۔

مگر آج چھ ماہ بعد تقریباً ہر شخص ناصرف ذہنی بلکہ مالی طور پر بھی کورونا کی تباہ کاریوں کا شکار ہو گیا ہے۔

پاکستان کے 21-2020 کے وفاقی بجٹ پر بھی کورونا کی تباہ کاریوں کا اثر واضح دکھائی دے رہا ہے۔ کئی دہائیوں میں پہلی بار پاکستانی کی معیشت سکڑی ہے اور مجموعی شرح نمو صفر اعشاریہ چار ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت ٹیکس اور برآمدات وغیرہ کے اہداف بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی معاشی تباہ کاریوں کی وجہ سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

تاہم بری خبر یہ تھی کہ کورونا ہی کی وجہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا بھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور ترقیاتی اخراجات جن سے نئے منصوبے بننے تھے وہ بھی کم کر دیے گئے ہیں۔

اپنی بجٹ تقریر کے آغاز میں ہی وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے واضح کیا کہ یہ بجٹ کورونا سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ معیشت کی رفتار کم ہونے کا خدشہ ہے جس کے لیے وسعت کو فروغ دینے والی معاشی پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔

ترقیاتی اخراجات جن سے نئے منصوبے بننے تھے وہ بھی کم کر دیے گئے ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

نیا ٹیکس نہیں مگر تنخواہوں میں اضافہ بھی نہیں

کورونا سے عام آدمی اور کاروباری طبقے کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نہیں عائد کیا مگر سرونگ اور ریٹائرڈ ملازمین پر جو خبر بم بن کر گری وہ ان کی تنخواہوں یا پنشنز میں کسی اضافے کا نہ ہونا ہے۔

عام طور پر ہر سال حکومت ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ کرتی ہے تاکہ وہ مہنگائی، افراد زر اور دیگر ضروریات کے تناسب سے اپنے اخراجات ادا کر سکیں تاہم اس سال اس طرح کا کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

اپوزیشن کے رہنماؤں نے تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افراط زر کی وجہ سے اب سرکاری ملازمین اپنے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہوں گے۔

سوشل میڈیا پر سرکاری ملازمین بھی اس معاملے پر حکومت سے شاکی نظر آئے تاہم حکومت کے حامیوں کا موقف ہے کہ کورونا اور معیشت کے سکڑنے کے باعث حکومت کی آمدنی میں کمی کے باعث یہ اقدام مجبوری بن گیا تھا۔

صحافی خلیق کیانی کے مطابق کورونا نے بجٹ کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات میں کمی

گذشتہ سال ترقیاتی منصوبوں کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 701 ارب روپے مختص کیے گئے تھے تاہم اس سال یہ بجٹ کم کر کے 650 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ نئی سڑکیں، پل، ہسپتال، سکولز و دیگر منصوبے متاثر ہوں گے۔

معاشی امور پر کئی دہائیوں سے رپورٹنگ کرنے والے ڈان اخبار سے وابستہ صحافی خلیق کیانی کے مطابق کورونا نے بجٹ کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ حکومت نے تقریباً تمام اخراجات میں کمی کی ہے صرف دفاعی اخراجات میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

خلیق کیانی کے مطابق کورونا ہی کے باعث اس سال بجٹ میں حکومت نے عوام کو دی جانے والی سبسڈی کی مقدار بھی 349 ارب سے کم کر کے 209 ارب کر دی ہے۔ یاد رہے کہ یہ سبسڈی عوام یا کاروباری افراد، کسانوں وغیرہ کو بجلی گیس کے بلوں یا دیگر حوالوں سے دی جاتی ہے۔

کورونا کی وجہ سے بڑھنے والے اخراجات

اپنی تقریر میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ کورونا کے باعث حکومت کی معیشت کے استحکام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو دھچکہ لگا ہے۔ تقریباً تمام صنعتیں اور کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے باجود حکومت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے گذشتہ مالی سال صرف کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکج کی منظوری دی جس میں سے مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ سے فراہم کی گئی ہے۔ اس میں طبی آلات کی خریداری، حفاظتی لباس اور طبی شعبے  کے لیے 71 ارب روپے جبکہ غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

اگلے سال کے بجٹ کے لیے احساس پروگرام کی رقم 187 ارب سے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ جبکہ خوراک، توانائی اور دیگر شعبوں میں غریب افراد کے لیے 179 ارب کی سبسڈی بھی رکھی ہے۔ لاہور اور کراچی میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہسپتالوں کے لیے بھی 13 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

کورونا کی وجہ سے انسانی زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے صحت کا شعبہ اولین ترجیح ہے بہتر طبی خدمات، وبائی امراض کی روک تھام اور صحت کے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 20 ارب روپے کی رقم مختص  کی گئی ہے اور حکومت توجہ آئی سی ٹی سولوشنز کی طرف مبذول کر رہی ہے۔

Read Previous

Gambling house Probability

Read Next

Compared – Speedy Advice Of extraessay