Sun 10-11-1442AH 20-6-2021AD

کئی ارکان کورونا کا شکار، قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس کیسا ہوگا؟

پاکستان کی قومی اسمبلی میں آج مالی سال 2021-2020 کا وفاقی بجٹ پیش کیا جا رہا ہے جس کے لیے ایوان میں صرف 86 ارکان کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ اجلاس کے دوران سماجی فاصلے کے اصولوں کے مدنظر ماضی کے برعکس اپوزیشن کی جانب سے روایتی احتجاج کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔

پارلیمانی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کا دن پارلیمان میں عموماً ایک ہنگامہ خیز دن ہوتا ہے۔ حکومت بجٹ پیش کرتی ہے تو اپوزیشن معمول کے مطابق اسے الفاظ کا گورکھ دھندہ قرار دے کر پوری قوت کے ساتھ احتجاج کرتی ہے تو حکمران جماعتیں بھی اپنی عددی قوت سے اس احتجاج کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ 

اپوزیشن ارکان بجٹ پیش کرنے والے وزیر خزانہ کے سامنے جمع ہوتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور بعض اوقات تو کبھی روٹی اور کبھی چوڑیاں تک پیش کر دی جاتی ہیں۔ 

ملکی معاشی صورت حال اور حکومت اور اپوزیشن کی تعداد میں کم فرق کی وجہ سے رواں سال بجٹ اجلاس تحریک انصاف کی حکومت کے لیے مشکل گھڑی سمجھا جا رہا تھا۔ حکومت نے کورونا کے باعث ورچوئل اجلاس کی تجویز دی تو اپوزیشن نے یہ تجویز اس لیے مسترد کر دی تھی کہ حکومت چالاکی سے بجٹ پاس کرانا چاہتی ہے۔ 

ایسے میں حکومت نے اجلاس تو بلا لیا لیکن قائد حزب اختلاف شہباز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزرا شیخ رشید اور شہریار آفریدی سمیت کم و بیش 25 ارکان قومی اسمبلی، چھ سینیٹرز اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے درجنوں ملازمین کورونا کا شکار ہو گئے۔ صورت حال تبدیل ہوئی تو اپوزیشن کا رویہ بھی بدل گیا۔

Read Previous

Rare Report Gives You The Facts on write my paper 4 me That Just A Few People Know Occur

Read Next

پاکستان کی پہلی کورونا ٹیسٹنگ کٹ تیار