Thu 5-5-1443AH 9-12-2021AD

کارروائی کے باوجود چینی کی قیمت میں کمی کیوں نہیں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو شوگر ملز مالکان کو چینی 70 روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم جاری کیا جب کہ ہر گھر کی بنیادی ضرورتوں میں شمار کی جانے والی چینی پاکستان میں عام مارکیٹ میں 85 سے نوے روپے فی کلو ہی فروخت ہو رہی ہے۔

حکومت کی اس سال شوگر مافیا کے خلاف سرگرمی اور کیسز تحقیقاتی اداروں کو بھیجے جانے کے باجود چینی کی قیمتیں مارکیٹ میں کم کیوں نہیں ہو رہی ہیں؟ گنے کے کاشتکار قصوروار ہیں، طاقتور شوگر مل مالکان یا پھر حکومتی ادارے جنہوں نے قیمتوں کا تعین اور اس پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے؟

اگر اس سلسلے میں ماضی کی تحقیقاتی رپورٹس اور حکومتی اداروں کی سفارشات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گنے کی امدادی قیمت کے تعین اور چینی کی درآمد پر پابندی جیسے اقدامات کی وجہ سے شوگر انڈسٹری کو حکومتی تحفظ  حاصل ہے۔ جس کے باعث مارکیٹ میں طلب و رسد کے اصول کے تحت چینی کی قیمت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف شوگر ملوں کے مالکان اتنے بااثر ہیں اور کارٹلز کی طرح ایک دوسرے کا ایسے تحفظ کرتے ہیں کہ ان کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔

شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کی پیداوار کا صرف 30 فیصد عام آدمی کے لیے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ باقی 70 فیصد انڈسٹری کو بیچ دیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ شوگر کی پراڈکٹ سے چلنے والی انڈسٹری کے چند مالکان میں بھی وہی افراد ہیں جن کی چینی کی ملیں ہیں۔

چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران چینی کی مارکیٹ قیمت میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کمیشن کی رپورٹ کو عدالت میں چیلینج کیا۔ (فوٹو: فیس بک)

جو چینی دسمبر 2018 میں مارکیٹ میں  55.99 روپے کلو فروخت ہو رہی تھی اب 85 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ حکومت کے شوگر کمیشن کے مطابق چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے فی کلو ہونی چاہیے جو مارکیٹ میں چند روپے زیادہ پر فروخت کی جا سکتی ہے۔

تاہم حیرت انگیز طور پر یوٹیلیٹی سٹورز کی دستاویزات کے مطابق رواں  سال حکومت مل مالکان سے 79.50 روپے کلو کے حساب سے چینی یوٹیلیٹی سٹورز کے لیے خریدتی رہی تاکہ عوام کو 68 روپے کلو بیچی جا سکے اور اس مقصد کے لیے اضافی رقم سبسڈی کی مد میں قومی خزانے سے ادا کی گئی۔

 حالیہ حکومتی کارروائی اور سفارشات

وفاقی حکومت نے گزشتہ سال کے آخر اور رواں سال کے شروع میں چینی کی بڑھتی قیمتوں پر نوٹس لے کر ایک تحقیقاتی کمیشن بنا دیا تھا۔

کمیشن نے 21 مئی کی اپنی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور حکومت میں شامل افراد سمیت چینی ملوں کے مالکان کو ناجائز منافع خوری اور حکومتی اداروں کو نااہلی میں کا قصوروار ٹھہرایا تھا. تاہم شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کے خلاف درخواست دائر کر دی۔

جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ انکوائری کمیشن عام آدمی کے لیے بنا تھا تاہم اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا چینی ایک مزدور کی ضرورت ہے اور (حکومت) کوکا کولا پر سبسڈی دے رہے ہیں۔

شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کی پیداوار کا صرف 30 فیصد عام آدمی کے لیے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے جب کہ باقی 70 فیصد انڈسٹری کو بیچ دیا جاتا ہے۔

چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے فی کلو ہونی چاہیے۔ فوٹو: اے پی

مل مالکان لاگت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور ملی بھگت میں ملوث ہیں: شوگر کمیشن

وزیراعظم کی جانب سے قائم کیے گئے شوگر انکوائری کمیشن کے مطابق پاکستان میں چھ گروپس چینی کی پیداوار کا 51 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ یہ سیاسی اثر رسوخ والے مل مالکان جن میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار، سابق وزیراعظم نواز شریف کا خاندان، پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریب سمجھا جانے والا اومنی گروپ اور دیگر شامل ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مارکیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں اور حکومتی پالیسی اور انتظامی امور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔۔

شوگر کمیشن کے مطابق چینی مل مالکان لاگت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ گنے کی قیمت گزشتہ پانچ سالوں میں صرف دس روپے فی چالیس کلو بڑھی ہے اور وہ 180 روپے من سے 190 روپے ہو گئی جبکہ گزشتہ سال انہوں نے کاشتکاروں سے حکومتی امدادی قیمت 190 روپے فی من کے بجائے سستے داموں گنا خریدا۔

تاہم پچھلے سال گنے کی کم پیداوار کے باعث بعض کاشتکاروں نے 220 روپے من بھی گنا بیچا لیکن اس حساب سے بھی چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے ہی بنتی ہے جبکہ 190 روپے من کا حساب کیا جائے تو چینی کی قیمت 57.59 ہونی چاہیے۔

کمیشن کے مطابق بعض مل مالکان نہ صرف کسانوں کو گنے کی کم قیمت دیتے ہیں بلکہ ان کے وزن کا تخمینہ بھی کم لگا کر اپنا خرچ بچا لیتے ہیں اور اس طرح کی خریداری کو ریکارڈ میں لائے بغیر اس سے چینی بنا لیتے ہیں اور بیچ بھی دیتے ہیں۔

Read Previous

The Lower Down on Japanese Woman Exposed

Read Next

REMOVE CELLULITE Associated Articles