Mon 13-2-1443AH 20-9-2021AD

ہمارے لیڈر

صدیوں پہلے لوگ کیا باتیں کرتے ہوں گے۔ عام طور پر مرد حضرات کا پسندیدہ موضوع سیاست ہوتا ہے۔ لیکن صدیوں پہلے کیا سیاسی گفتگو ہوتی ہوگی، صدیوں پہلے تو بادشاہ، راجے، مہاراجے حکومت کیا کرتے تھے اور سب کے سب ہی اچھے ہوتے تھے کیونکہ ان کے خلاف بولنے والوں کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوتا تھا۔ سیاسی گفتگو میں حاکم کی برائی نہ کی جائے ایسا کیسا ممکن ہے اور اگر اختلافِ رائے نہ ہو تو گفتگو کا فائدہ۔ ہرکارے برے تھے پر قابلِ بحث نہ تھے کہ ضمنی کرداروں کے بارے میں بحث کرنے میں کوئی خاص مزا نہیں آتا۔ تو اس صورتحال میں سیاسی گفتگو کو تصور کرنا ممکن نہیں۔ ایسے میں آخر سارے فارغ مرد بیٹھ کر کیا گفتگو کرتے ہوں گے؟ چلیں تصور کر لیتے ہیں کے صدیوں پہلے کچھ مرد بازار میں بیٹھے اپنے اپنے روحانی پیشواؤں و بزرگوں کی کرامت پر بحث کر رہے ہیں۔ بحث کا مقصد وہی ہے کہ کسی طرح اپنے روحانی پیر کا قد مخالف کے پیر کے مقابل بڑھایا جائے۔

آئیں دیکھتے ہیں کے ہمارے آبا کیا بحث فرما رہے ہیں!

گفتگو کی ابتدا میں صاحب نے بتایا کہ “بھائیوں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اعلیٰ حضرت کیچڑ میں چل رہے تھے تب بھیان جوتے ایسے صاف تھے جیسے کے نئے ہوں۔”

کچھ احباب نے واہ واہ کی، ایک نے تو یہ تک کہا کہ بھائی ایمان تازہ کر دیا۔ اس پر ایک صاحب جو کہ ان بزرگ کے معتقد نہ تھے بولے، “کمال تو ضرور ہے پر میرے پیرومرشد ایک دفعہ بازار سے گزر رہے تھے۔ بارش کی وجہ سے بازار کیچڑ ہوچکا تھا۔ ایسے میں سامنے سے ظالم کوتوال اپنے گھوڑے پر سوار چلا آرہا تھا۔ اب معجزہ دیکھیں ایسا ہوا کہ پیرومرشد کیچڑ میں قدم رکھتے تو چھینٹے دور موجود ظالم کوتوال کی کپڑوں پر نمودار ہوتے تھے۔ حضرت کے جوتے بلکل صاف رہے۔” پھر ان صاحب نے اپنے دوست کی طرف اشارہ کیا اور کہا “بھئی تم بھی تو کچھ بولو، تم بھی تو وہاں تھے!”

دوست تو جیسے موقع کے انتظار میں بیٹھے تھے فوراً بولے کہ، “ہاں ہاں، بلا شبہ پیرومرشد کامل بزرگ ہیں۔ اور یہ تو کچھ نہیں، اک دفعہ مجھے کچھ دوستوں کے ہمراہ حضرت کے جنگل والےحجرے میں مہمان ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت ان دنوں اکیلے ہی یادِ الہی میں مشغول تھے۔ آپ لوگوں کو تو پتہ ہے کہ حضرت مہینوں گوشہ نشین ہوتے تھے اور کھانا کیا پانی کی بوند بھی نہ پیتے تھے۔ لیکن مہمان بھوکے رہیں یہ حضرت کو گوارا نہ تھا۔ اب نہ کوئی خادم پاس نہ کوئی مال واسباب، اب کیا کیا جائے۔ ایسے میں حضرت نے زیرِ لب کوئی کلام پڑھا اور اس کے کچھ لمحوں بعد ہی جنگل سے ایک شیر نمودار ہوا۔ ہم سب پر تو دہشت سی طاری ہوئی، پر حضرت مطمئن رہے۔ یہ دیکھ کر حواس بحال ہوئے کہ شیر حضرت کے قدموں میں ایسے لوٹنا شروع ہوا جیسے کے کوتوالِ شہر، شہزادہِ عالم کے قدموں میں لوٹتا ہے۔ حضرت نے شیر کو حکم کیا کہ میرے مہمانوں کے لئے کھانے کا بندوبست کرو۔ شیر حکم سنتے ہی جنگل میں واپس چلا گیا۔ کچھ دیر بعد شیر واپس آیا تو کیا دیکھتے ہیں کے اس کے پیچھے اک ہرنی اور اس کے بچے چلے آتے ہیں۔ قریب آ کر وہ ہرنی انسانوں کی زبان میں گویا ہوئی کہ حضرت آپ پر میرے بچے قربان اور یہ کہہ کر وہ واپس لوٹ گئی۔ اس رات جو ہم نے ہرن کا گوشت کھایا ویسا کھانا بس حضرت کی رفاقت میں ہی مل سکتا ہے۔”

ان صاحب کے بیان پر بڑی واہ واہ ہوئی، ایمان اور جوش دونوں ہی گرما گئے۔ مگر دوسرے بزرگ کے حمایتی اس بات پر جل کر رہ گئے۔ ان میں سے ایک صاحب بولے کے: ’’واہ حضرت کے کرامات کی کیا بات ہے۔ لیکن میں آپ کو اعلیٰ حضرت کا واقعہ بتلاتا ہوں۔ آپ کو یاد تو ہوگا کہ چند سال پہلے ساتھ کے صوبے میں بڑا قحط پڑا تھا۔ ہر طرف بھوک ہی بھوک تھی۔ بھوک کا یہ عالم تھا کہ چھوٹے بچوں کے سر کے بال تک سفید ہو چلے تھے، بڑوں کی تو بات ہی نہ کریں۔ ظلِ الہی تک اس قیامت کی خبر نہ پہنچے اس لئے وہاں کا صوبیدار اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے استدعا کی حضور کچھ رحم کی نظر فرمائیں۔ خیر مختصر یہ کے حضرت صوبیدار کے ساتھ ہولئے۔ آپنے اس صوبے میں کچھ عرصے قیام کیا۔ آپ کا طریقہ یہ رہا کہ آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ سے مٹی اٹھا کر دیتے اور کہتے کہ اس کو کھاؤ، جس چیز کو تصور کرو گے اس کے ذائقہ ملے گا۔ اعلیٰ حضرت کی کرامت کی بدولت لوگوں نے کیا مرغ کیا ہرن، ہر نعمت کی لذت سے آشنائی پائی۔ ہاں بھائیوں اور اس کے ساتھ یہ بھی آپ لوگوں کو بتا دوں کے آپ حضرت کی پھونک کی کرامت سے سفید بال سیاہ ہوجاتے اور گرے ہوئے بال دوبارہ نمودار ہوجاتے‘‘۔

ان صاحب کی بات ابھی مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کے ان ہی کے ایک حمایتی بولے، ’’ارے بھائی، پوری بات تو آپ نے بتائی نہیں۔ صوبیدار بڑا ممنون ہوا اور قدم بوسی کرتے ہوئے بولا کہ اعلیٰ حضرت آپ کے فیض سے نوکری بچ گئی، اگر ظلِ الہی کو قحط کی خبر ہوجاتی تو گردن اتروا دیتے پر حضور مسئلہ اپنی جگہ ہے، پانی نہیں ہے تو فصل نہیں ہے اور اگر فصل نہ ہوئی تو دیوانی کا کیا ہوگا، وقت پر محصول نہ ادا کیا تو ظلِ الہی سے بچ نہ پاؤں گا۔ حضرت صرف مسکرائے اور زیر لب دعا مانگی، ابھی مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ ایسی گھٹا چھائی اور بادل ایسے جھوم کر برسے کے بس کیا بتاؤں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بھائیوں کچھ دنوں بعد صوبیدار پھر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پیش ہوا اور درخواست کی کہ حضور کہ بارش کو بند کرنے کی تدبیر کریں کہ اگر بادل یوں ہی برستے رہے تو سیلاب آ جائے گا، فصل نہ ہوگی تو محصول نہ ہوگا اور پھر میری گردن بھی نہ ہوگی۔ حضرت نے ہاتھ سے اس کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس کو حکم دیا کہ ان کا کرتا مبارک اپنے ہاتھ سے دھو کر باہر سوکھنے ڈال دے۔ کم عقل صوبیدار پریشان تو ہوا پر کیا کرتا، اس نے حضرت کا کُرتا جیسے باہر ڈالا بارش رک گئی۔ یعنی صاحبو، فطرت کو بھی یہ منظور تھا کہ حضرت کا کُرتا سوکھ جائے۔ آپ بھائیوں کو اور بھی بتا دوں کہ وہ کُرتا صوبیدار نے سنبھال کر جامع مسجد میں رکھوایا ہے کے سب فیض حاصل کریں۔ اس کُرتے کو میں نے کئی بار جا کر دیکھا ہے، اس کو دیکھنے کا اپنا لطف ہے۔ دور دور سے اشوبِ چشم میں مبتلا مریض آتے ہیں اس کو دیکھنے اور ان کی تکلیف نگاہ پڑتے ہی ختم ہوجاتی ہے‘‘۔

اب ان باتوں میں آپ باتیں شامل کرتے جائیں تو کرامات کی ضخیم کتاب بن جائے گی پھر بھی کرامات ختم نہ ہوں گی۔ اگر آپ آج کے دور کے فارغ لوگوں میں بیٹھ جائیں تو ان میں سے اکثر اس ہی طرح کی اندھی عقیدت اپنے لیڈر کے متعلق رکھتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں لفظوں کی جنگ ہوتی ہے کہ تمہارا لیڈر برا اور ہمارا اچھا، تمہارا جھوٹا ہمارا سچا۔

لیکن ان سب باتوں میں شاید ہم بھول بیٹھے ہیں کہ آخر لیڈر کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ ہم کسی کی تقلید کیوں کرتے ہیں؟ میری نظر میں تقلید کا مقصد عزت کا حصول ہونا چاہیے۔ انفرادی اور اجتماعی پر عزت دلوانے والا ہی لیڈر کہلانے کا مستحق ہے۔ میری نظر میں بزرگ اور لیڈر وہی ہیں جنہوں نے لوگوں کی عزت کی اور عزت سے رہنا سکھلایا۔ اس ملک کے بننے کا مقصد بھی یہی تھا کہ برصغیر کے مسلمان عزت کی زندگی گزار سکیں۔ مگر اب حالات کو دیکھیں تو دنیا میں بھی ہماری کوئی خاص عزت نہیں ہے اور تو اور موقع ملنے پر ہم اک دوسرے کی بے عزتی کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خیر اس بحث کا کیا حاصل یہ باتیں تو ہم کو معلوم ہی ہیں۔ آجکل تو کرامات کا موسم ہے، کسی بے عزت غریب کو راشن کا تھیلا دیں، کسی برہنہ پا کو جوتا پہنائیں، تصویر بنائیں اور اپنے مریدوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔ باقی آگے آپکے مرید اور چاہنے والے سنبھال لیں گے۔

Read Previous

بجٹ 2020-21 کا تقابلی جائزہ

Read Next

اسکولز دوبارہ کھولنے سے متعلق رہنما اصول